بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور پینٹاگون کے تھنک ٹینکس امریکی خارجہ پالیسی کو "طاقت کی زبان" سے مرتب کرتے رہیں گے، امریکہ کے ساتھ ایران کی کوئی حقیقی مفاہمت قائم نہیں ہوگی؛ یہ کوئی سیاسی پیش گوئی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "تہذیبی حکم" ہے۔ امریکہ اب بھی ـ ایران کے ساتھ معاملات میں ـ "سلامتی کے کلاسیکی نظریات" (Classic Security Theories) کا اسیر ہے۔ وہ قدیم نظریات جو ان کی دنیا کے اس ناقابل انکار اصول پر مبنی ہیں: "کسی بھی اداکار کو کافی دباؤ کے ساتھ سر تسلیم خم کرنے کے مقام پر لا کھڑا کیا جا سکتا ہے۔"
دوسری اور آخری قسط:
ایرانی قوم دباؤ میں آکر اپنی "مزاحمتی و مقاومتی شناخت" کی طرف لوٹتی ہے اور یہ ـ اس کی طرف سے "حساب کتاب کی غلطی (miscalculation)" ہے جو "مقاومتی ثقافت" کو نظر انداز کرنے سے ہوتی ہے۔ اس خرابی کی ٹھوس مثال "40 روزہ جنگ" میں دیکھی جا سکتی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے "فوری اور مفلوج کرنے والے اسٹرائیک تھیوری" کا استعمال کرتے ہوئے اقتصادی انفراسٹرکچر اور شہری مراکز پر بمباری کرکے ایران کے قومی عزم کو توڑنے کی کوشش کی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ ایران ناکام ہوگیا کیا؟ کیا اسلامی جمہوریہ جھک گیا؟ تہران، کئی ہزار تباہ شدہ رہائشی یونٹوں کے ساتھ، نہ صرف منہدم نہیں ہؤا، بلکہ "مقاومت و مزاحمت کی علامت" بن گیا۔
جنگ کے چند ہفتوں بعد کروڑوں انسانوں کی جانب سے امامِ شہید کی تشییعِ جنازہ نے ثابت کر دیا کہ "قوم کے عزم" کی حفاظت بموں سے نہیں "محبت" اور "ایمان" سے ہوتی ہے اور یہ وہ سبق ہے جسے واشنگٹن ابھی تک سمجھنا نہیں چاہتا یا پھر اس کے ادراک سے عاجز ہے۔ کیونکہ اگر وہ سمجھ گیا تو "پابندیوں اور دھمکیوں" کے بجائے "مہذب مکالمے" کی طرف جائے گا۔ لیکن امریکہ کیوں نہیں سمجھتا؟ اس کا جواب "تاریخی غیر حاضری (Historical Absence)" میں مضمر ہے۔ اپنی 250 سالہ تاریخ کے ساتھ امریکہ کو کبھی بھی "تہذیب کی ناکامی کو ہضم [برداشت] کرنے" کے تجربے سے گذرنا نہیں پڑا ہے [ابھی اپنی نوجوان تہذیب کے زوال سے مکمل طور پر دوچار نہیں ہؤا]۔ یہ ملک اپنی اس مختصر تاریخ کی سینکڑوں یکطرفہ جنگوں میں ہمیشہ "فاتح" رہا ہے۔ یہ ہمیشہ "فاتح" رہا ہے اور اس "فتح کے سراب" نے اسے "مزاحمتی تہذیبوں" کے ادراک سے محروم کر دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ، ایک "زندہ تہذیب" کے سامنے، "عقل کی بنا پر" نہیں، بلکہ "جبلت (Instinct) کی بنیاد پر"، ردعمل ظاہر کرتا ہے اور جبلت صرف "طاقت" کو سمجھتی ہے؛ اور ایران کے خلاف، "طاقت" بے اثر ہے۔ یہ ایک "شیطانی چکر (Vicious Circle)" ہے۔ ایک ایسا چکر جس سے نکلنے کا واحد راستہ "سمجھنا (اور ادراک)" ہے اور اس فہم و ادراک کی ایک قیمت ہوتی ہے۔
تو اب سوال یہ ہے کہ اس کی قیمت کیا ہے؟ اور جواب یہ ہے کہ اس کی قیمت "پرانے نظریات کا خاتمہ" ہے؛ پرانے مغربی بیانیے سے نکلنا ہے؛ روایتی امریکی تسلط اور عالمی بالادستی کو بھول جانا ہے۔
امریکہ کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کی "فوجی طاقت" اب سیاست کی "حتمی زبان" نہیں رہی ہے۔
امریکہ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ "تہذیبیں""معنی" کے ساتھ زندہ رہتی ہیں، "میزائل" کے ساتھ نہیں۔
امریکہ کو اب تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایران، "خطرہ نہیں" ایک "مہذب طاقت" ہے جو عالمی "امن" کی شراکت دار ہو سکتی ہے۔
امریکہ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر ایران کا "احترام" کیا جائے، تو امن قائم ہو سکتا ہے اور احترام کا مطلب ہے "طاقت" کا خاتمہ اور "تہذیبی مکالمے" کا آغاز؛ اور یہ وہی چیز ہے جسے ٹرمپ اور پینٹاگون ابھی تک تک نہیں سمجھ پائے ہیں؛ یا شاید سمجھنا نہیں چاہتے؛ لیکن ان کے نہ سمجھنے یا نہ سمجھنے پر اصرار کرنے سے حقائق نہیں بدلتے، ہزاروں سالہ تہذیب بالآخر اسے سمجھا ہی لے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: بہنام صدقی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ